گواہی کیسے ٹوٹتی معاملہ خدا کا تھامرا اور اس کا رابطہ تو ہاتھ اور دعا کا تھاگلاب قیمت شگفت شام تک چکا سکےادا وہ دھوپ کو ہوا جو قرض بھی صبا کا تھابکھر گیا ہے پھول تو ہمیں سے پوچھ گچھ ہوئیحساب باغباں سے ہے کیا دھرا ہوا کا تھالہو چشیدہ ہاتھ اس نے چوم کر دکھا دیاجزا وہاں ملی جہاں کہ مرحلہ سزا کا تھاجو بارشوں سے قبل اپنا رزق گھر میں بھر چکاوہ شہر مور سے نہ تھا پہ دوربیں بلا کا تھا
Post a Comment