Maa Poem In Urdu

میں نے روتے ہوئے پوںچھی تھے کسی دن آنسو

مدتوں ماں نے نہیں دھویا سکارف اپنا

لبوں پہ اس کے کبھی بددا نہیں ہوتی
بس ایک ماں ہے جو مجھ سے خفا نہیں ہوتی

اب بھی چلتی ہے جب آندھی کبھی غم کی 'رانا'
ماں کی ممتا مجھے باہوں میں چھپا لیتی ہے

مصیبت کے دنوں میں ہمیشہ ساتھ رہتی ہے
پيمبر کیا پریشانی میں امت چھوڑ سکتا ہے

جب تک رہا ہوں دھوپ میں شیٹ بنا رہا
میں نے اپنی ماں کا آخری زیور بنا رہا

کسی کو گھر ملا حصے میں یا کوئی دكا آئی
میں گھر میں سب سے چھوٹا تھا میرے حصے میں ماں آئی

اے اندھیرے! دیکھ لے منہ تیرا سیاہ ہو گیا
ماں نے آنکھیں کھول دیں گھر میں اجالا ہو گیا

اس طرح میرے گناہوں کو وہ دھو دیتی ہے
ماں بہت غصے میں ہوتی ہے تو رو دیتی ہے

میری خواہش ہے کہ میں پھر سے فرشتہ ہو جاؤں
ماں سے اس طرح لپٹ جاؤں کہ بچہ ہو جاؤں

حادثوں کی گرد سے خود کو بچانے کے لئے
ماں! ہم اپنے ساتھ صرف تیری دعا لے جائیں گے

خود کو اس بھیڑ میں تنہا نہیں ہونے دیں گے
میں نے روتے ہوئے مسح تھے کسی دن آنسو

Post a Comment

Previous Post Next Post