میں نے روتے ہوئے پوںچھی تھے کسی دن آنسو
مدتوں ماں نے نہیں دھویا سکارف اپنالبوں پہ اس کے کبھی بددا نہیں ہوتیبس ایک ماں ہے جو مجھ سے خفا نہیں ہوتیاب بھی چلتی ہے جب آندھی کبھی غم کی 'رانا'ماں کی ممتا مجھے باہوں میں چھپا لیتی ہےمصیبت کے دنوں میں ہمیشہ ساتھ رہتی ہےپيمبر کیا پریشانی میں امت چھوڑ سکتا ہےجب تک رہا ہوں دھوپ میں شیٹ بنا رہامیں نے اپنی ماں کا آخری زیور بنا رہاکسی کو گھر ملا حصے میں یا کوئی دكا آئیمیں گھر میں سب سے چھوٹا تھا میرے حصے میں ماں آئیاے اندھیرے! دیکھ لے منہ تیرا سیاہ ہو گیاماں نے آنکھیں کھول دیں گھر میں اجالا ہو گیااس طرح میرے گناہوں کو وہ دھو دیتی ہےماں بہت غصے میں ہوتی ہے تو رو دیتی ہےمیری خواہش ہے کہ میں پھر سے فرشتہ ہو جاؤںماں سے اس طرح لپٹ جاؤں کہ بچہ ہو جاؤںحادثوں کی گرد سے خود کو بچانے کے لئےماں! ہم اپنے ساتھ صرف تیری دعا لے جائیں گےخود کو اس بھیڑ میں تنہا نہیں ہونے دیں گےمیں نے روتے ہوئے مسح تھے کسی دن آنسو
Post a Comment